حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید حسین شاہرودی نے مؤسسہ مذاہب اسلامی میں درسِ اخلاق کے دوران تبلیغ کے صحیح طریقۂ کار اور مخاطبین کے ساتھ مؤثر رابطے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معارفِ الٰہی کی تدریجی تعلیم اور حقیقت کو سمجھنے کے لیے ذہن سازی کرنے کا ایک نمایاں نمونہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا: تبلیغ کے دوران مخاطب کے لیے وقت نکالنا اور اس کی فہم و استعداد کے مطابق مرحلہ وار دینی معارف منتقل کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتدا ہی سے توحید کی حقیقت براہِ راست اور بغیر کسی تمہید کے مخاطب کے سامنے پیش نہیں کی بلکہ قابلِ فہم مقدمات فراہم کرکے اور کافی وقت صرف کرکے اس کے اندر حقیقت کی طرف توجہ اور اسے قبول کرنے کا ماحول پیدا کیا۔
حجت الاسلام والمسلمین شاہرودی نے قرآن کریم کی اس آیتِ مبارکہ« إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ» (’’بے شک میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مخاطب کو معرفت کے اس مقام تک پہنچانے کے لیے متعدد مقدمات فراہم کیے اور صبر و تحمل اور باریک بینی کے ساتھ حقیقت کو سمجھنے کا راستہ ہموار کیا۔
حوزہ علمیہ قم کے اس استاد نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ تعلقات میں اخلاق اور آدابِ معاشرت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ائمہ اطہار علیہم السلام کے اصحاب کی سیرت کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا: ائمہ اطہار علیہم السلام کے اصحاب دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے حالات اور احساسات کا خاص خیال رکھتے تھے اور کبھی اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہونے سے روکنے کے لیے سختیاں اور مشکلات بھی برداشت کرتے تھے۔
حجت الاسلام والمسلمین شاہرودی نے اس طرزِ عمل کو اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری، ان کے حقوق کی رعایت اور حسنِ معاشرت سے متعلق ہدایات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا: یہ سیرت واضح کرتی ہے کہ اچھا برتاؤ اور حسنِ اخلاق اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کی دینی اور تبلیغی ذمہ داری کا لازمی حصہ ہے۔
حوزہ علمیہ کے اس استاد نے دینی معارف کی تبلیغ میں سماجی اور خاندانی تعلقات کو اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمارا طرزِ عمل ایسا ہونا چاہیے کہ دوسرے لوگ ہم پر دوسروں کی نسبت زیادہ اعتماد کریں، ہمیں قبول کریں اور ہمارے اخلاق و معاشرت کو پسند کریں۔










آپ کا تبصرہ